نماز کے فضائل
ہر مسلمان مرد و عورت پر دن اور رات میں پانچ وقت کی نماز ادا کرنا فرض ہے۔ نماز صرف ایک عبادت نہیں بلکہ یہ بندے اور اس کے رب کے درمیان براہِ راست تعلق کا ذریعہ ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا وہ حق ہے جسے ادا کرنا ہر صاحبِ ایمان پر لازم ہے۔
اگر نماز کو سمجھ کر، اخلاص کے ساتھ اور سنت کے مطابق ادا کیا جائے۔ تو یہ انسان کی دنیا بھی سنوار دیتی ہے اور آخرت بھی۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ نماز کے ہر عمل اور ذکر کی قدر پہچانے۔ اور اسے مکمل توجہ کے ساتھ ادا کرے۔
نماز کے فضائل بندوں کو اس عظیم عبادت کی طرف راغب کرنے کے لیے بیان کیے گئے ہیں ۔ جس قدر نماز خشوع، خضوع اور اخلاص کے ساتھ ادا کی جائے۔ اسی قدر اس کا اجر و ثواب بڑھتا چلا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ بعض اوقات بلا حساب اجر عطا فرما دیتے ہیں۔
نماز کی فضیلت
نماز کے فضائل، روحانی فوائد اور دنیوی و اخروی اثرات کو جاننے کے لیے اکابر علماء کی کتب نہایت مفید ہیں۔ بالخصوص شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ کی مشہور تصنیف۔ “فضائلِ نماز” اس موضوع پر ایک جامع اور مستند کتاب ہے۔ جس کا مطالعہ ہر مسلمان کے لیے نہایت فائدہ مند ہے۔
ذیل میں نماز کے چند اہم اعمال فضائل کو آسان اور سادہ انداز میں بیان کیا جا رہا ہے۔
تکبیرِ تحریمہ کی فضیلت
نماز کا آغاز تکبیرِ تحریمہ سے ہوتا ہے۔ ، جو دنیاوی مشاغل سے کٹ کر مکمل طور پر اللہ کی طرف متوجہ ہونے کی علامت ہے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے ۔ کہ تکبیرِ تحریمہ کی عظمت دنیا اور اس کی تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہے۔ یہ لمحہ بندے کو اللہ کی بارگاہ میں داخل کر دیتا ہے۔
ثناء پڑھنے کی اہمیت
ثناء میں اللہ تعالیٰ کی پاکی، حمد اور عظمت کا اظہار کیا جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ایسے کلمات کو اللہ کے نزدیک محبوب ترین کلام قرار دیا ہے۔ ثناء پڑھنے سے نماز میں دل کی حاضری پیدا ہوتی ہے اور بندہ اللہ کی بڑائی کو دل سے تسلیم کرتا ہے۔
سورۂ فاتحہ کی فضیلت
سورۂ فاتحہ قرآنِ کریم کی سب سے عظیم سورت ہے، جو ہر نماز کی بنیاد ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں اسے نور قرار دیا گیا ہے اور اس کی ہر آیت پر خاص اجر کی بشارت دی گئی ہے۔ جو بندہ سورۂ فاتحہ کو توجہ اور تدبر سے پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرماتے ہیں۔
آمین کہنے کی برکت
نماز میں سورۂ فاتحہ کے بعد “آمین” کہنا محض ایک لفظ نہیں بلکہ مغفرت کا ذریعہ ہے۔ حدیثِ نبوی ﷺ کے مطابق اگر نمازی کی آمین فرشتوں کی آمین کے ساتھ مل جائے تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ یہ اللہ کی خاص رحمت کا دروازہ ہے۔
لمبا قیام کرنے کا اجر
نماز میں قیام کو طول دینا، یعنی سکون اور توجہ کے ساتھ کھڑا ہونا، اللہ کے نزدیک پسندیدہ عمل ہے۔ احادیث میں آیا ہے کہ لمبا قیام انسان کے لیے موت کی سختیوں کو آسان کر دیتا ہے۔ یہ عمل بندے کے صبر اور اللہ سے تعلق کی علامت ہے۔
رکوع، قومہ اور سجدہ کے فضائل
مکمل رکوع و سجدہ کی اہمیت
نماز اس وقت کامل ہوتی ہے جب رکوع اور سجدہ پوری توجہ اور اطمینان سے ادا کیے جائیں۔ جو شخص رکوع و سجدہ کو صحیح طریقے سے ادا کرتا ہے، اس کی نماز اس کے حق میں دعا کرتی ہے، جبکہ لاپرواہی سے ادا کی گئی نماز وبال بن سکتی ہے۔
کثرتِ سجدہ کے فوائد
سجدہ بندے کو اللہ کے سب سے زیادہ قریب کر دیتا ہے۔ ہر سجدہ انسان کے درجات بلند کرتا اور گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ نے سجدہ میں زیادہ سے زیادہ دعا کرنے کی ترغیب دی ہے۔
تسبیحات کی اہمیت
رکوع میں کم از کم تین مرتبہ سبحان ربی العظیم اور سجدہ میں سبحان ربی الاعلیٰ کہنا نماز کی تکمیل کا سبب بنتا ہے۔ یہ الفاظ بندے کی عاجزی اور اللہ کی عظمت کا اعلان ہیں۔
قومہ میں حمدِ الٰہی کی فضیلت
رکوع سے اٹھتے وقت اللہ کی حمد بیان کرنا ایسا عمل ہے جس پر فرشتے نیکی لکھنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت اور قبولیت کی علامت ہے۔
تشہد کی عظمت
تشہد کے کلمات نہایت جامع اور بابرکت ہیں۔ ان میں اللہ کی حمد، نبی کریم ﷺ پر سلام اور تمام صالح بندوں کے لیے دعا شامل ہے۔ یہ الفاظ پڑھنے والا زمین و آسمان کے تمام نیک بندوں کو سلام پہنچاتا ہے، جو ایک عظیم سعادت ہے۔
درودِ شریف کے فضائل
نبی کریم ﷺ پر درود بھیجنا ایک ایسا عمل ہے جس کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ ایک مرتبہ درود پڑھنے پر اللہ تعالیٰ دس رحمتیں نازل فرماتے، دس گناہ معاف کرتے اور دس درجے بلند فرما دیتے ہیں۔
سلام پھیرنے کی برکت
نماز کا اختتام سلام پر ہوتا ہے، جو امن اور خیر کی دعا ہے۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایسا عظیم عمل ہے جس پر دیگر اقوام مسلمانوں سے حسد کرتی ہیں، کیونکہ اس میں بے پناہ اجر اور روحانی فائدہ پوشیدہ ہے۔

