اسلام میں کامیابی کے بنیادی اصول
یقیناً ہر انسان کے دل میں کامیاب ہونے کی خواہش موجود ہوتی ہے۔ کوئی شخص دنیاوی ترقی، دولت اور مقام حاصل کرنا چاہتا ہے۔ کوئی عزت و سکون کو کامیابی سمجھتا ہے۔ جبکہ کچھ لوگ ایسی کامیابی کے طالب ہوتے ہیں ۔ جو صرف اس دنیا تک محدود نہ ہو بلکہ مرنے کے بعد بھی انسان کے کام آئے ۔ اسلام میں کامیابی کے اصول ایک ایسی دائمی کامیابی کی طرف بلاتا ہے جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ قرآنِ کریم میں نہایت واضح انداز میں یہ بتایا گیا ہے۔ کہ حقیقی کامیابی کن لوگوں کا مقدر بنتی ہے اور وہ کون سی خوبیاں اور صفات ہیں ۔ جو انسان کو اس بلند مقام تک پہنچاتی ہیں۔
اسلام میں کامیابی کے اصول۔ حقیقی کامیابی وہ ہے جو ہمیشہ باقی رہے اور جس کے بعد کسی قسم کی ناکامی نہ ہو۔ قرآن مجید ایسے لوگوں کو کامیاب قرار دیتا ہے ۔ جو سچے دل سے ایمان لاتے ہیں اور اپنی زندگی میں اچھی صفات اور نیک اعمال کو اپناتے ہیں۔ یہی لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ ہیں اور انہی کے لیے جنت الفردوس کا وعدہ ہے۔ ، جو جنت کا سب سے بلند اور اعلیٰ درجہ ہے۔
سورۃ المؤمنون کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان اہلِ ایمان کا ذکر فرمایا ہے ۔ جو حقیقی کامیابی کے مستحق ہیں۔ ان آیات میں بیان کی گئی صفات انسان کے اخلاق، کردار اور روزمرہ زندگی کے ہر پہلو کو شامل کرتی ہیں۔ جو شخص دل سے چاہتا ہے ۔ کہ وہ دنیا میں بھی سرخرو ہو اور آخرت میں بھی نجات پائے ۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان صفات کو سمجھے اور عملی طور پر اپنی زندگی کا حصہ بنائے۔
نماز میں خشوع و خضوع
اسلام میں کامیابی کی پہلی نشانی نماز کو قرار دیا گیا ہے۔ لیکن محض نماز ادا کر لینا ہی کافی نہیں ہوتا۔ بلکہ اصل مقصد اسے خشوع و خضوع کے ساتھ پڑھنا ہے۔ خشوع دل کی وہ کیفیت ہے ۔ جس میں بندہ پوری توجہ اور عاجزی کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ جبکہ خضوع کا تعلق جسم کے سکون اور ٹھہراؤ سے ہے۔ جب انسان نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے ۔ تو اگر اس کے دل میں یہ احساس زندہ ہو کہ وہ اپنے رب کے سامنے کھڑا ہے۔ تو اس کی نماز محض ایک عمل نہیں رہتی بلکہ ایک روحانی کیفیت بن جاتی ہے۔ ایسی نماز انسان کے مزاج میں نرمی، دل میں سکون اور زندگی میں نظم پیدا کرتی ہے۔ اسے آہستہ آہستہ برے کاموں اور گناہوں سے دور کرنے لگتی ہے۔
فضول اور بے مقصد کاموں سے دوری
کامیاب انسان کی ایک نمایاں علامت یہ ہے ۔ کہ وہ اپنے وقت اور صلاحیتوں کی قدر کرتا ہے اور انہیں فضول باتوں میں ضائع نہیں کرتا۔ اسلام انسان کو یہ سکھاتا ہے۔ کہ زندگی کو مقصد کے ساتھ گزارا جائے، کیونکہ وقت ایک ایسی نعمت ہے جو دوبارہ ہاتھ نہیں آتی۔ بے جا گفتگو اور لایعنی کام انسان کی سوچ اور ترقی دونوں کو متاثر کرتے ہیں۔ جو شخص اپنے وقت کو سمجھ داری سے استعمال کرتا ہے اور اپنی توانائیاں درست سمت میں لگاتا ہے، وہی آہستہ آہستہ حقیقی کامیابی کے راستے پر آگے بڑھتا ہے۔
زکوٰۃ اور مالی حقوق کی ادائیگی
انسان کے پاس موجود مال دراصل اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ زکوٰۃکے فرض ہونے پر اس کو ادا کرنا بنیادی فرض ہے ۔ معاشرے میں عدل، ہمدردی اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کا ذریعہ بھی ہے۔ جب انسان اپنے مال میں سے اللہ کے حکم کے مطابق مستحق لوگوں کا حق نکالتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے مال میں برکت ڈال دیتا ہے۔ بظاہر زکوٰۃ نہ دینے سے مال زیادہ محسوس ہوتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسے مال سے سکون اور برکت ختم ہو جاتی ہے، جبکہ زکوٰۃ ادا کرنے سے مال بھی پاک ہوتا ہے اور دل کو بھی اطمینان نصیب ہوتا ہے۔
پاکدامنی اور شرم و حیا
اسلام نے انسان کی فطری خواہشات کے لیے واضح اور جائز طریقے بتائے ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ ہر شخص کو خود کو ناجائز راستوں سے بچانا چاہیے۔ پاکدامنی نہ صرف انسان کی اپنی عزت اور اخلاقی حفاظت کرتی ہے بلکہ معاشرے کو بھی بدکاری اور انتشار سے محفوظ رکھتی ہے۔ آج کے دور میں، جب فحاشی اور بے حیائی عام ہو چکی ہیں، پاکدامنی کی قدر اور اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
امانت داری
امانت داری کامیاب انسان کی سب سے اہم پہچان ہے۔ اس میں وقت، ذمہ داری، راز اور دوسروں کا اعتماد بھی شامل ہے۔ جو شخص ہر کام دیانت داری سے انجام دیتا ہے، لوگ اس پر بھروسہ کرتے ہیں اور اللہ بھی اس کی مدد فرماتا ہے۔ امانت میں خیانت عارضی فائدہ تو دے سکتی ہے، مگر آخر میں نقصان ہی انسان کے حصے آتا ہے۔
وعدوں اور عہد کی پاسداری
اسلام میں وعدہ پورا کرنے کی بہت سخت تاکید کی گئی ہے۔ کامیاب اور بااخلاق مومن وہ ہے جو اپنے قول اور عمل میں ہمیشہ سچا رہے۔ چاہے وہ ذاتی وعدہ ہو یا کسی معاہدے کی بات، اپنے عہد پر قائم رہنا انسان کو دوسروں کے درمیان عزت اور اعتماد دلاتا ہے۔ اس کے برعکس وعدہ خلافی نہ صرف تعلقات کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ معاشرے میں بے اعتمادی اور انتشار کو بھی بڑھا دیتی ہے۔
نماز کی پابندی اور حفاظت
آخر میں اللہ تعالیٰ نے دوبارہ نماز کا ذکر کیا تاکہ یہ واضح ہو جائے کہ نماز انسان کے دین کی بنیاد ہے۔ نماز انسان کو برائی اور بے حیائی سے روکتی ہے اور اسے راستے پر قائم رکھتی ہے۔ جو شخص وقت کی پابندی کے ساتھ نماز ادا کرتا ہے، اس کی زندگی میں سکون، ترتیب اور روحانی طاقت پیدا ہوتی ہے۔ قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کے بارے میں سوال ہوگا، اس لیے اسے برقرار رکھنا اور اس کی حفاظت کرنا بہت ضروری ہے۔

