کتاب کا تعارف
الفوز الکبیر فی اصول التفسیر برصغیر میں قرآن فہمی کے میدان میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ شاہ ولی اللّٰہ دہلویؒ نے اس میں قرآن کے اسالیب، مضامین اور تدبر کے اصول متعین کیے۔
کتاب کا بنیادی مقصد قاری کو قرآن کی فکری وحدت سمجھانا ہے۔ شاہ ولی اللّٰہؒ فرماتے ہیں کہ قرآن کے مضامین کسی اتفاقی ترتیب سے نہیں ۔ بلکہ حکیمانہ نظام کے تحت نازل ہوئے۔
انہوں نے قرآن کی سورتوں کو پانچ اقسام میں تقسیم کیا: عقائد، عبادات، معاملات، اخلاقیات اور اجتماعی نظام۔ یہ تقسیم قرآن کے مطالعے کو منظم اور بامقصد بناتی ہے۔
کتاب میں شاہ صاحب نے مفسرین کے طریقہ تفسیر پر تنقیدی نگاہ ڈالی اور یہ واضح کیا ۔ کہ اصل مقصد قرآن کی روح کو سمجھنا ہے، محض لفظی بحث نہیں۔
“الفوز الکبیر” آج بھی ہر طالب علم کو قرآن کے تدبر کی سمت دکھاتی ہے ۔ اور برصغیر کی فکری روایت کا لازمی حصہ ہے۔
شاہ ولی اللّٰہ محدث دہلویؒ
مصنف کا تعارف
شاہ ولی اللّٰہ احمد بن عبدالرحیم دہلویؒ (1703ء – 1762ء) ۔ برصغیر کے سب سے بڑے محدث، مفسر، مصلح اور فلسفی مانے جاتے ہیں ۔ ان کی ولادت دہلی میں ہوئی، وہ شاہ عبدالرحیم کے فرزند اور مدرسہ رحیمیہ کے وارث تھے۔
شاہ ولی اللّٰہؒ نے قرآن و حدیث کو عام فہم انداز میں سمجھانے کی کوشش کی ۔ اور دین کی اصل روح کو معاشرتی سطح پر زندہ کیا۔
انہوں نے حجاز میں شیخ ابوطاہر کردی سے حدیث کی تعلیم حاصل کی ۔ اور واپس آ کر برصغیر میں علمی تحریک کی بنیاد رکھی۔
ان کی مشہور تصانیف میں “حجۃ اللّٰہ البالغہ”، “الفوز الکبیر”، اور “الانصاف” شامل ہیں۔
شاہ ولی اللّٰہؒ کا پیغام امت کی فکری بیداری، اعتدال ۔ اور قرآن و سنت کی طرف رجوع کا درس دیتا ہے۔
