لغوی و اصطلاحی مفہوم
درود شریف عظیم عبادت ہے ۔ جو نبی اکرم ﷺ کے ساتھ محبت و عقیدت اور وفاداری کا سب سے بہت اچھا اظہار ہے ۔ لغوی طور پر “درود” عربی لفظ صلوٰۃ سے ماخوذ ہے، جس کے معنی دعا، رحمت اور برکت کے ہیں ۔ جب یہ لفظ اللہ کے لیے بولا جائے ۔ تو معنی ہوتا ہے “رحمت فرمانا”، اور جب مومنوں کی طرف سے کہا جائے تو مطلب ہوتا ہے ۔ نبی ﷺ کے لیے دعا کرنا ۔
اصطلاحی طور پر درود شریف اس مخصوص دعا کو کہتے ہیں ۔ جس کے ذریعے ہم اللہ تعالیٰ سے نبی کریم ﷺ پر رحمتیں بھیجنے کی درخواست کرتے ہیں۔ اس عمل کی اصل قرآنِ کریم کی سورۃ الاحزاب کی وہ آیت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
“إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ…”
(یعنی اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔)
یہ آیت اس بات کا ثبوت ہے ۔ درود شریف صرف ایک ذکر نہیں بلکہ ایک الٰہی حکم ہے۔ جو مومن کے ایمان اور محبتِ رسول ﷺ کی علامت بن جاتا ہے۔
قرآن میں درود شریف اور اس کے معانی کی وضاحت
قرآنِ مجید میں درود شریف کا ذکر صرف حکم کی صورت میں نہیں، بلکہ ایک مکمل روحانی فلسفہ ہے۔ درود دراصل اس تعلقِ رحمت کا مظہر ہے ۔ جو خالق اور مخلوق کے درمیان نبی ﷺ کے وسیلے سے قائم ہے۔ مفسرین کے مطابق، اللہ تعالیٰ کا نبی ﷺ پر درود بھیجنا “رحمت خاص” ہے۔ ، فرشتوں کا درود “استغفار” ہے، اور مؤمنوں کا درود “دعا اور اعترافِ محبت” ہے۔
قرآن کے اس بیان سے یہ بھی واضح ہوتا ہے ۔ درود شریف پڑھنے والا شخص اللہ کی سنت میں شریک ہو جاتا ہے ۔ کیونکہ وہ بھی اسی عمل کو انجام دیتا ہے جو اللہ خود فرما رہا ہے۔ اس کی روحانی تاثیر یہ ہے کہ دل نرم ہو جاتا ہے، گناہ جھڑ جاتے ہیں ۔ بندے کا رشتہ نبی ﷺ کے قرب سے جڑ جاتا ہے۔
احادیث میں درود شریف کی فضیلت
نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو صلوۃ و سلام کی کثرت کی تلقین فرمائی ہے۔ ایک مشہور حدیث میں ارشاد فرمایا:
جو مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ صحیح مسلم
ایک اور حدیث میں ہے ۔
قیامت کے دن میرے سب سے قریب وہ شخص ہوگا ۔ جو دنیا میں مجھ پر سب سے زیادہ درود بھیجتا تھا۔ (ترمذی)
یہ احادیث ثابت کرتی ہیں کہ درود شریف محض ثواب کا ذریعہ نہیں ۔ بلکہ نبی ﷺ کی قربت، مغفرت اور شفاعت کی کنجی ہے۔
درودِ ابراہیمی کا عربی متن اور اس کے فضائل
درودِ ابراہیمی وہ درود ہے ۔ جو نماز میں قعدہ کے دوران پڑھا جاتا ہے ۔ اور یہ سب سے افضل و مکمل درود مانا جاتا ہے
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ۔
ترجمہ:
اے اللہ! محمد ﷺ اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما ۔ جیسے تو نے ابراہیم علیہ السلام اور ان کی آل پر رحمت نازل فرمائی ۔ بے شک تو تعریف کے لائق اور بزرگی والا ہے ۔
درودِ ابراہیمی کی سب سے بڑی فضیلت یہ ہے ۔ یہ خود نبی ﷺ نے تعلیم فرمایا، اور اسے نماز کا لازمی حصہ قرار دیا ۔
مختصر درود شریف روزمرہ میں پڑھے جانے والے
زندگی کی مصروفیات کے باوجود، نبی ﷺ پر صلوۃ کو معمول بنانا بہت آسان ہے۔ چند مختصر درود درج ذیل ہیں:
- صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
- اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَسَلِّمْ
- اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَى النَّبِيِّ الأُمِّيِّ
یہ مختصر درود ہر حالت میں پڑھے جا سکتے ہیں ۔ محدثین نے لکھا ہے ۔ جو زبان درود شریف کی عادی بن جائے ، وہ زبان دنیا و آخرت میں برکت کا سرچشمہ بن جاتی ہے۔
درود شریف پڑھنے کے اوقات و مواقع
درود شریف پڑھنے کا کوئی خاص وقت مقرر نہیں ہے ۔ لیکن بعض مواقع ایسے ہیں جن میں اس کا پڑھنا زیادہ فضیلت والا ہے ۔
نماز کے بعد، دعا کے آغاز اور اختتام پر۔ جمعے کے دن، اذان کے بعد، اور جب نبی ﷺ کا نام مبارک لیا جائے ۔
احادیث میں آیا ہے کہ جمعہ کے دن کثرت سے درود پڑھنا نبی ﷺ تک براہِ راست پہنچایا جاتا ہے ۔ اسی طرح دعا کے شروع اور آخر میں درود پڑھنے سے دعا مقبول ہوتی ہے ۔ کیونکہ درود دعا کو قبولیت کے حصار میں لے لیتا ہے ۔
درود شریف کے فوائد
درود شریف پڑھنے کے بے شمار روحانی اور دنیاوی فوائد ہیں ۔ اس سےدل کو سکون ملتا ہے۔ گناہ معاف ہوتےہیں ۔ رزق میں برکت ہوتی ہے۔ مصیبتوں سے نجات کا سبب بنتا ہے۔ امام قسطلانی فرماتے ہیں کہ درود شریف بندے اور اللہ کے درمیان حائل رکاوٹوں کو دور کرتا ہے۔
مزید یہ کہ درود شریف سے نبی ﷺ کے ساتھ روحانی تعلق پیدا ہوتا ہے ۔ جس کی برکت سے دل نور سے بھر جاتا ہے ۔ انسان کی زندگی میں خوشحالی اور اطمینان پیدا ہوتا ہے۔
درود شریف نہ پڑھنے پر وعید
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
برباد ہو وہ شخص جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔ (ترمذی)
یہ حدیث اس بات کی تنبیہ ہے کہ درود نہ پڑھنا دراصل نبی ﷺ کی محبت سے غفلت ہے۔ علماء فرماتے ہیں کہ درود سے غفلت انسان کو خیر و برکت سے محروم کر دیتی ہے ۔ اور اس کی دعائیں قبولیت سے دور ہو جاتی ہیں۔
درود شریف پڑھنے سے شفاعتِ نبوی ﷺ
درود شریف کا سب سے بڑا انعام قیامت کے دن نبی ﷺ کی شفاعت ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا
جو شخص مجھ پر کثرت سے درود بھیجتا ہے، قیامت کے دن میری شفاعت کے زیادہ قریب ہوگا۔
یہی درود شریف بندے کو محشر کے دن نبی ﷺ کے سایۂ رحمت میں لے آئے گا۔
درود پڑھنے سے درجات کی بلندی
درود شریف صرف گناہوں کا کفارہ نہیں بلکہ درجات کی بلندی کا بھی ذریعہ ہے۔
صلوۃ پڑہنے کی وجہ سےاعمال بلند ہوتے ہیں ۔ دعائیں قبول ہوتی ہیں ۔ دل منور ہوتے ہیں ۔
اس لیے مومن کا فخر یہ ہونا چاہیے ۔ اس کی زبان دن رات درود سے تر رہے ۔ تاکہ اللہ کے فضل سے وہ دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کرے۔
