تعارف
راجح قول کے مطابق لفظ قرآن قرا یقرا باب فتح سے مشتق ہے ۔ جس کے لفظی معنی ہیں پڑھنا اور اصطلاحی تعریف ہے ۔ اللہ تعالی کا ایسا کلام جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا مصاحف میں لکھا گیا بغیر کسی شک و شبہ کے تواتر کے ساتھ آپ ﷺسے منقول ہے ۔
قرآن کریم کے کل آیات چھ ہزار ہیں ۔ اس سے اوپر اختلاف ہے ۔ بعض نے کہا 6204 بعض نے کہا 6214 بعض نےکہا 6219 وغیرہ ۔حضرت عطاء بن یسار فرماتے ہیں کلمات کی تعداد 70439 ہیں ۔ حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ قران پاک میں حروف کی تعداد 3 لاکھ21ہزار439 ہے ۔کیا ہے
قرآن مجید کو اللہ تعالی نے حضرت محمدﷺ پر نازل فرمایا ۔ اللہ تعالی کا وہ کلام ہے ۔ جو انسانوں اور جنوں کی رہنمائی کے لیے نازل کیا گیا ۔ یہ مسلمانوں کی عظیم آسمانی کتاب ہے ۔ قرآن کریم لوح محفوظ میں ہمیشہ سے ہے ۔ ذرا سی تبدیلی سے محفوظ ہونے کے ساتھ شیاطین کی شرسے محفوظ ہے ۔ اس لیے اسےلوح محفوظ کہا جاتا ہے ۔
قرآن کا نام قرآن کیوں؟
اللہ تعالی نے اپنے کلام کے لیے قرآن، کا لفظ استعمال ہے ۔ قرآن کریم کی سورہ واقعہ میں ہے ، اِنَّہُ لَقُرْءَان کَرِیْم، بے شک یہ قران بڑے رتبہ والا ہے ۔سورۃ البروج میں فرمایا ،بل ھو قران مجید، یہ قران بڑی شان وشوکت والا ہے ۔ سورہ یوسف کی آیت نمبر 2میں فرمایا ، اناانزلناہ قرءانا عربیالعلکم تعقلون ۔ بلاشبہ ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں نازل کیا اس لیے کہ تم سمجھ سکو ۔ قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے ہدایت کا ذریعہ ہے ۔
قرآن کریم کا نزول
رمضان کے مہینے کی رات لیلۃ القدر میں آسمان دنیا پر اللہ تعالی نے اتارا ۔ اس کے بعد حسب ضرورت 23 سال تک نازل ہوتا رہا ۔ پہلی وحی غار حرا میں سورہ علق کی پہلی آیات نازل ہوئیں ۔ مختلف طریقوں سے وحی نازل ہوتی تھیں ۔ آواز کی صورت میں جو گھنٹی کی سی ہوتی تھی اس آواز میں جو کچھ کہا جاتا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد ہو جاتا تھا ۔ جبرائیل علیہ السلام انسانی حضرت د حیہ قلبی کی شکل و صورت میں آتے تھے۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام اپنی صورت میں بھی تشریف لاتے تھے اللہ تعالی سے معراج کے موقع پر بلاواسطہ ہم کلامی ہوئی حضرت جبرائیل علیہ السلام آپﷺکے قلب اطہرپر القا کر دیتے تھے ۔
حفاظت قرآن

قرآن کریم 23 سال کے عرصے میں حسب ضرورت نازل ہوتا رہا حالات کے مطابق مختلف آیات نازل ہوتی تھیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نزول وحی کے وقت الفاظ کو دہرانے لگ جاتے اس لیے کہ قران پاک یاد ہو جائے ۔ اللہ تعالی نے اس سے منع فرما دیا ۔ الفاظ کو جلدی سے دہرانے کی ضرورت نہیں ہم ایسا حافظہ پیدا کر دیں گے کہ قرآن آپ کو یاد ہو جاےگا بھول نہ سکیں گے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال ماہ رمضان میں نازل شدہ قرآن پاک کو حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ دور فرماتے تھے ۔
اس وقت صحابہ کرام کی بڑی جماعت قران کو یاد کرتی اور رات کو نمازوں میں دہراتی تھی ۔ حفاظت قران پاک کے لیے آپﷺنے لکھوانے کا خاص اہتمام فرمایا تھا ۔ نزول وحی کے بعد کاتبین وحی کو حکم فرماتے ، اس کو فلاں سورت اور فلاں آیت کے بعد لکھا جائے ۔ قرآن حکیم کی آیات اس وقت پتھر، چمڑے، کھجور کی شاخیں اور جانوروں کی ہڈیوں وغیرہ میں لکھی جاتی تھیں ۔
کاتبین وحی
جو وحی کو لکھتے تھے ان میں حضرت زید بن ثابت، ابی بن کعب ،زبیر بن عوام، خلفاء راشدین اور حضرت معاویہ شامل تھے ۔
حفاظت قران عھدصدیقی میں
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں قرآن مجید متفرق چیزوں میں لکھا ہوا تھا ۔ لیکن یکجا کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی تھی کیونکہ وحی کاسلسلہ جاری تھا ۔ اس طرح نئے احکامات و آیات کا انتظار رہتا تھا ۔ آپ کےوصال کے بعد فتنےرونما ہوئے ۔ حضرت ابوبکر صدیق کی خلافت میں جنگ یمامہ کے دوران حفاظ کرام کی بڑی جماعت شہید ہو گئی ۔
چناچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق کو مشورہ دیا قرآن کو ایک جگہ جمع کیا جائے ۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ پہلے پہل تیار نہ ہوئے شرح صدر کے بعد اس عظیم المرتبت کام کے لیے تیار ہو گئے تھے۔ حضرت زیدبن ثابت کو اس عمل کا ذمہ دار بنایا گیا ۔ حضرت خود بھی حافظ قران تھے پورا قران لکھ سکتے تھے اس وقت بہت زیادہ حفاظ بھی موجود تھے ۔
انہوں نے احتیاط کے پیش نظر اس وقت تک کوئی آیت درج نہیں کی جب تک انہیں معتبر ہونے کی تحریری اور زبانی شہادتیں نہیں ملیں۔
جو آیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود لکھوائی تھیں ۔ وہ مختلف صحابہ کرام میں محفوظ تھیں ۔ حضرت زید نے انہیں اکٹھا کیا ۔ تاکہ نیا نسخہ اسی سے نقل کیا جائے ۔ اس طرح حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں قران پاک ایک جگہ جمع کیا گیا ۔
حفاظت قران عہد عثمانی میں
جس وقت حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ خلیفہ بنے تو اس وقت اسلام دور دراز علاقوں میں پھیل چکا تھا ۔ نئے علاقے کے لوگ قران پاک سیکھتے تھے ۔ صحابہ کرام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مختلف قرءاتوں کے مطابق سیکھا تھا ۔ اس لیے ہر صحابی نے اپنے شاگردوں کو اسی قراءت مطابق سیکھایا۔جس قراءت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھا تھا ۔ اس لیے قرآن کا نزول مختلف قراءتوں نازل ہوا تھا ۔ اللہ تعالی کی طرف سے اجازت تھی کہ قران کو مختلف قراءتوں میں پڑھا جائے ۔
لوگوں نے اپنی قراءت کو حق اور دوسری قراءت کو غلط سمجھنا شروع کر دیا ۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت حفصہ کی طرف پیغام بھیجا حضرت ابوبکر کے دور کے جو صحیفے موجود ہیں وہ بھیج دیں ۔ حضرت زید کو اس بات کا ذمہ دار بنایا گیا موجودہ صحیفوں میں سے قران کریم کے ایسے نسخے تیار کریں جس میں سورتیں بھی مرتب ہوں ۔
قرآن کے چند نسخے تیار کرکے ان کو مختلف جگہوں میں بھیجا گیا ۔ اسی کے مطابق نسخے تیار کر کے تقسیم کیے گئے ۔ اس طرح اختلاف باقی نہ رہا بعد میں سہولت کے لیے حرکات ونقطے بھی لگائے گئے ۔ قرآن پاک کو 30 پاروں میں تقسیم کیا گیا ۔ نماز میں تلاوت کی آسانی کے لیے قرآن میں رکوع کی ترتیب دی گئی ۔
فضائل قرآن
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
مفہوم ہے ۔ قرآن کا ماہر قیامت کے دن معزز و نیک فرشتون کے ساتھ ہو گا، جس کو قرآن پڑھنے میں مشقت ہوتی ہو اٹک اٹک کر پڑھتا ہو اس کے لیے دوگنا ثواب ہے ۔ مسلم
حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، مفہوم یہ ہے ۔ قیامت کے دن صاحب قرآن سے کہا جائے گا تو قرآن پڑھتاجا اور جنت کی اونچائی میں چڑھتا
جا،قرآن کو ٹھہر ٹھہر پڑھ جیسا کہ دنیا میں تو قرآن ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرتا تھا ۔ تیرا مرتبہ وہی ہے ۔جہاں پر تو قرآن کی آخری آیت پڑھے گا ۔ ترمذی

