الاتقان فی علوم القرآن ازجلال الدین السیوطی
کتاب کا تعارف
الاتقان فی علوم القرآن قرآنی علوم پر لکھی جانے والی ایک جامع ،معتبر و مستند شہرہ آفاق کتاب ہے۔ جس میں علم تفسیراور علم قرآن کے متعلق تمام مباحث کی وضاحت کی گئی ہے۔ اس کتاب میں قرآن کے متعلق علوم و فنون کو 80 قسموں میں بیان کیا گیا ہے۔ قرآن ،سورۃ اور آیت کے معانی اور تفسیر و تاویل کو بیان کیا گیا ہے۔
نزول قرآن
اس میں نزول قرآن کے متعلق تمام باتوں کی وضاحت کی گئی۔ اوقات نزول جس میں سورۃ یا آیت کا نزول وقت ،دن ، رات اور سردی و گرمی موسم کے لحاظ سے کہ کب نازل ہوئیں ،وضاحت درج کی گئیں۔ اسی طرح مواطن نزول کا بھی ذکر کیا گیاہے۔ مکی و مدنی ہونے کے لحاظ سے کہ کس شہر یا علاقے میں نزول ہوا۔ اسباب نزول بیان کیے گئے کہ آیت یا سورۃ کس سبب کے تحت نازل ہوئیں ۔ علامہ سیوطی ؒ نے نزول قرآن کے ضمن میں کہ کون سی آیت و سورۃ کس کے بعد اور کس سے پہلے نازل ہوئی ۔
امام جلال الدین سیوطی ؒ نے اس کتاب میں قراءات ، اعجاز قرآن ۔ تعداد آیات و کلمات اور حروف ، محکم و متشابہ،مفردات القرآن اور طبقات مفسرین کے ساتھ اس کے علاوہ بہت سی عنوانات کی وضاحت فرمائی ۔
جمع و ترتیب قرآن

حضرت سیوطی ؒ نے اس بحث میں خطابی ؒ سے نقل کرکےفرمایا ہے ۔ آپﷺ نے قرآن کو ایک مصحف میں جمع نہیں فرمایا ۔ کیونکہ اس وقت بعض احکامات و آیات قرآن کے ناسخ ہونے کا سلسلہ جاری تھا ۔ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے انتقال کی وجہ سے وحی کا ورود منقطع ہوا ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو کہا میں چاہتا ہوں آپ قرآن کو ایک مصحف میں جمع کرنے کا حکم دیں ۔
فضائل قرآن
حدیث عبدااللہ ابن عمرو ، اللہ تعالی کو آسمانوں اور زمینوں میں سب سے ذیادہ پسندیدہ قرآن پاک ہے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔ جس گھر میں قرآن پڑھا جاتا ہے اس گھر میں بھلایاں ذیادہ ہوتی ہیں ۔ اور وہ گھر جس میں قرآن پاک کی تلاوت نہیں کی جاتی اس گھر میں خیریں کم ہوتی ہیں ۔
الاتقان میں فضائل قرآن کے متعلق بہت سی احادیث بیان کی گئی ہیں۔ اس کو النوع الثانی والسبعون میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
امام جلال الدین السیوطی
آپ کا نام اور نسب نامہ درج ذیل ہے۔
عبدالرحمٰن ابن الکمال ابی بکر بن محمد بن سابق الدین ابن الفخر عثمان ابن ناظرالدین الھمام الخضیری السیوطی ہیں ۔ آپ کا لقب جلال الدین اور کنیت ابوالفضل ہے۔ ان کو اصل میں اعجمی کی نسبت دی جاتی ہے ۔ ان کے جد اعلی ھمام الدین عجمی تھے ۔
آپ کی پیدائش مغرب کے بعد اتوار کی رات رجب کے مہینے میں 849ھ کو سیوط کے مقام پر پیدا ہوے ۔ آپ ؒ یتیم پیدا ہوے اور جب آپؒ چھ سال کے ہوے والدہ بھی وفات پاگئیں ۔
حضرت ؒ نے کم عمر میں ہی قرآن پاک اور علوم قرآن پر مہارت حاصل کر لی تھی ۔ آپ کی تصانیف 600 تک کی تعدام میں شمار کی جاتی ہیں ۔
آپؒ کی وفات جمعرات کے دن 19 جمادی الاولی 911ھ اپنے گھر میں ہوئی ۔ اور حوش قوسون میں دفن کیے گئے ۔

