احترام کیا ہے
کہتے ہیں کے معنی عزت و تکریم و تعظیم کے ہیں ۔ احترام کا مفہوم کسی انسان کو اہمیت دینے اور اس کو اعلی مقام دینےکا احساس ہے ۔
انسان انس سے مشتق ہے جس کا معنی ہے ۔ ماءنوس ہونا کہ غیر کے ساتھ اپنوں جیسا رویہ رکھنا ماءنوس کہلاتا ہے ۔
احترام انسانیت قران کی روشنی میں
سورۃالاسراء کی آیت نمبر 70 میں ارشاد فرمایا
وَلَقَدْکَرَّمْنَا بَنِی اٰدَمَ وَ حَمَلْنَاھُمْ فِی الْبَرّوَالْبَحرِ وَ رَزَقْنٰھُمْ مِنَ الطَّیِّبَاتِ وَ فَضَّلْنٰھُمْ عَلَی کَثِیْرِمِّمَّنْ خَلَقْنَاتَفْضِیْلاَ
ترجمہ
البتہ تحقیق ہم نے بنی ادم (انسان) کو محترم بنایا ۔ اور ہم نے انہیں زمین وسمندر میں سوار کیا ۔ اور ہم نے انہیں پاکیزہ رزق عطا کیا اور ہم نے ان کوبہت ساری مخلوقات پر فضیلت والا بنایا ۔
کَرَّمْنَا کی لغوی تحقیق و مطلب
اس آیت میں تکریم لایا گیا جو کہ باب تفیل سے ہے جس کا معنی میں مبالغہ ہوتاہے۔ اسی طرح ترکیب کے لحاظ سے لفظ تفضیلا ، فضلنا کا مفعول مطلق ہے۔
تکریم کہتے ہیں کسی شخص یا انسان کی بہت زیادہ عزت و احترام کرنا ہے ۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ انسان کو بہت ہی زیادہ معزز مکرم بنایا گیا ہے ۔ قرآن کی رو سے ا انسان کو محترم ہونے کا اعزازحاصل ہے ۔ نا حق کسی انسان پر ظلم و زیادتی کرنے کی اسلام اجازت نہیں دیتا ۔ نہ ہی کسی انسان کی تذلیل و تحقیر کی اجازت ہے۔ اس آیت کے آخر میں فرمایاگیاہے۔ انسان کو شکل و صورت اور جسمانی بناوٹ کے لحاظ سے دوسری مخلوقات سے اونچا مقام عطا کیا ہے ۔
سورۃ تین میں انسان کی عظمت
لَقَدْخَلَقْنَاالْاِنْسَانَ فِی اَحْسَنِ تَقْوِیْمِِ
بلاشبہ ہم نے انسان کو بہت ہی اچھی صورت میں پیدا کیا ہے۔
یہاں انسان سے مراد مطلق انسان ہے ۔ حضرت مجاہد ؒ نے ایک مرتبہ حضرت ابن عباس سے پوچھا ۔ اس حضورؐ کی ذات مراد ہے۔ انہوں نے کہا معاذاللہ ، ارشاد فرمایا مطلق انسان مراد ہے۔
سورۃ المائدہ میں انسانی جان کی قیمت

آیت نمبر 32میں ہے۔ جس کسی نے ایک جان کو بغیر کسی جرم و جان ۔ یا زمین میں فساد کی غرض سے قتل کر ڈالا ۔ اس نے ایسا کیا کہ پورے معاشرے کےلوگوں کو قتل کر ڈالا ۔ جس نے اس کی جان کو بچالیا گویا اس نے تمام لوگوں کی جان کو بچالیا ۔
امت ِ محمدیہ کے لئے بھی یہی حکم ہے ۔ حضرت حسنؒ سے کسی نے پوچھا کیا ہم بھی اس کے مکلف ہیں۔ جس طرح بنی اسرائیل مکلف تھے ۔ انہوں نے فرمایا ۔ ہاں یقینا اللہ کی قسم ہمارے خون سے زیادہ اللہ کے نزدیک بنو اسرائیل کے خون بوقعت نہ تھے ۔
حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کا واقعہ
جب حضرت عثمان رضی اللہ محصور کیا گیا تھا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ آئے اورکہا محاصرا کرنے والوں سے لڑنا چاہتے ہیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے منع کر دیا ۔ اور فرمایا ایک انسان کا قتل ایسا ہے جیسا کہ پوری انسانیت کاقتل ہے۔ تم واپس جاؤ میں دعا کرتا ہوں اللہ تعالی تمہیں اجردے اورگناہ سے بچائے ۔
شریعت میں ان تمام طریقوں منع کیا گیا ہے جن سے انسان کی تحقیرو تذلیل ہوتی ہے ۔ بے احترامی تین طریقوں سے ہوتی ہے۔
زبان سے جیسے تمسخر و استہزا، عیب نکالنا ،طعنہ دینا ،غیبت کرنا ، برے ناموں سے پکارنا ۔ ان سے سورۃ حجرات کی آیت نمبر 11اور12 میں منع کیا گیا ہے۔
تمسخر کسے کہتے ہیں؟
استہزا و تمسخر کا معنی ہےکہ کسی کے عیب کو اس طرح ذکر کرنا کہ جس سے لوگ ہنس پڑیں۔ یہ افعال و کردار بھی ہوتا ہے۔کسی کی طرف اس طرح اشارہ کرنا جس سے لوگ پڑیں ۔ غیبت کہتے ہیں غیر حاضر شخص کی ایسی بات کرنا ۔ اگر اس کو معلوم ہوجاے یا وہ سن لیتا ناراض ہوجاتا ۔
کردار سے جیسے ۔ چوری کرنا ،ناحق قتل کرنا،سورۃ المائدہ کی آیت نمبر 32 اور 38 میں ان سے منع کیا گیاہے۔ ہر اس حرکت سے منع کیا گیا ہے ۔ جس سے انسان کی بے عزتی ہوتی ہے۔
دل میں کسی انسان کے لیے بے احترامی کا جزبہ رکھنا ۔ جیسے بد ظنی و غلط خیالی ، سورۃ حجرات کی 12 میں منع کیا گیا ہے ۔ حسد ، بغض ، کینہ،ان تمام منفی جزبہ رکھنے سے شریعت نے منع کردیا ہے۔
حسدکسےکہتے ہیں، کیوں منع کیا گیا ہے
حسد سے منع کیا گیا ہے ۔ کیونکہ یہ احترام انسانیت کے مخالف ایک جذبہ ہے ۔ حسد کہتے ہیں کسی دوسرے شخص کی کامیابی، نعمت، مال دولت کو ناپسند کرنا ۔ اور نعمت یا کامیابی کے چھن جانے کی خواہش رکھناہے۔
مسلمان کا احترام
ایک مسلمان کا احترام شریعت میں کعبہ سے بھی زیادہ قرار دیا گیا ہے ۔ حضرت عبداللہ ابن عمرسے روایت ہے ۔ وہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ کو دیکھا ۔ خانہ کعبہ کا طواف کر رہے تھے اور فرما رہے تھے ۔ تو کتنا پاکیزہ ہے ۔ تیری خوشبو کتنی ہی مزیدار ہے ۔تو کتنے عظمت والا ہے اور تیری حرمت کتنے عظمت والی ہے۔ ” قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے ۔ مومن کا احترام کرنا اللہ کے نزدیک خانہ کعبہ سے بڑھ کر ہے “۔
