کتاب کا تعارف
فنون الافنان فی علوم القرآن قرآن کے اعجاز، بلاغت، اور فنی محاسن پر لکھی گئی اولین کتابوں میں سے ایک ہے۔ امام ابن الجوزیؒ نے اس میں قرآن کی ادبی و فکری عظمت کو نہایت دلنشین انداز میں بیان کیا۔
یہ کتاب مختلف “فنون” یعنی علوم پر مشتمل ہے، جیسے بیان، بدیع، اسلوب، ترتیبِ آیات، اور اعجازِ قرآن۔ ہر فن کے ساتھ مصنف نے قرآنی مثالیں اور عملی تطبیقات پیش کی ہیں۔
ابن الجوزیؒ نے قرآن کو محض دینی نص نہیں بلکہ کائناتی بصیرت کا سرچشمہ بتایا۔ ان کے نزدیک قرآن انسان کے دل و دماغ دونوں کو روشن کرتا ہے۔
“فنون الافنان” کی انفرادیت یہ ہے کہ یہ علم و ادب کا حسین امتزاج ہے۔ قاری کو نہ صرف معلومات بلکہ فکری ذوق بھی عطا کرتی ہے۔
یہ تصنیف قرآن کی ادبی فہم اور اس کے اعجازِ بیان کی کھڑکیاں کھولنے والی ایک شاہکار علمی کاوش ہے۔
امام ابن الجوزیؒ
مصنف کا تعارف
جمال الدین ابو الفرج عبدالرحمن بن علی بن محمد ابن الجوزیؒ (510ھ – 597ھ) بغداد کے معروف محدث، مفسر، واعظ اور ادیب تھے ۔ وہ عباسی دور کے علمی و اصلاحی منظرنامے کی نمایاں شخصیت تھے۔
ابن الجوزیؒ نے تقریباً تین سو سے زائد کتابیں لکھیں جن میں “زاد المسیر”، “صفۃ الصفوۃ”، اور “تلبيس إبليس” مشہور ہیں۔
ان کی علمی طاقت وعظ و نصیحت کے ساتھ ساتھ ادب اور بلاغت میں بھی ظاہر ہوتی ہے۔
“فنون الافنان” میں انہوں نے قرآن کے فنی و ادبی کمالات کو مدلل انداز میں پیش کیا۔
ان کا طرزِ تحریر دل نشین اور اثر انگیز تھا، جس نے ہزاروں لوگوں کے دلوں کو قرآن کی محبت سے منور کیا۔

