نماز میں خشوع و خضوع
نمازکوپہچان والی عبادت بنانایعنی کہ جو پڑھا جا رھا ہے اس کو سمجھ کر پڑھنا ہی اصل مقصد ہے۔ ایسی نماز ہی اللہ کے قریب کرتی ہے، دل کو سکون دیتی ہے اور مومن کو حقیقی کامیابی تک پہنچاتی ہے۔
جب بندہ نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے حضور ہم کلام ہوتا ہے، اس سے دعائیں مانگتا ہے اور اس کی بڑائی بیان کرتا ہے۔ اگر انسان کو یہ ہی معلوم نہ ہو کہ وہ زبان سے کیا ادا کر رہا ہے تو ایسی نماز روح سے خالی رہ جاتی ہے۔
نماز میں خشوع و خضوع ہوعبادت صرف جسمانی عمل نہ ہو بلکہ اس میں دل، دماغ اور شعور سب شامل ہوں۔ اسی لیے قرآن مجید میں واضح طور پر فرمایا گیا ہے
اے ایمان والو! نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ یہاں تک کہ تم سمجھنے لگو کہ تم کیا کہہ رہے ہو
(سورۃ النساء: 43)
یہ آیت اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ نماز میں الفاظ ادا کرنا کافی نہیں بلکہ ان کے معنی سمجھنا بھی ضروری ہے۔
نماز میں سمجھ بوجھ کیوں ضروری ہے؟
نماز میں قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے اور عربی زبان میں تلاوت کا ایک معنی اتباع یعنی پیروی بھی ہے۔ پیروی اسی وقت ممکن ہے جب بات کو سمجھا جائے۔ مثال کے طور پر سورۂ فاتحہ کو دیکھ لیجیے
آغاز میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء
درمیان میں بندے کا عہد
“ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں”
آخر میں ہدایت اور سیدھے راستے کی دعا
یہ الفاظ دراصل ایک عہد اور دعا ہیں، جو دل کی گہرائی سے اور پورے شعور کے ساتھ ادا کیے جانے چاہئیں۔
رکوع، سجدہ اور اذکار کا شعوری مفہوم
جب نمازی رکوع میں جا کر کہتا ہے
سبحان ربی العظیم
(میرا رب بہت عظمت والا ہے)
اور سجدے میں کہتا ہے
سبحان ربی الاعلیٰ
(میرا رب سب سے بلند ہے)
تو یہ محض الفاظ نہیں بلکہ بندگی کا اعلان ہے۔ اسی طرح تشہد، درود اور دعائیں بھی مکمل توجہ اور احساس کے ساتھ ادا کی جائیں تو نماز کا حقیقی لطف حاصل ہوتا ہے۔
آخری نماز کا تصور
رسول اکرم ﷺ نے نماز کو باکمال بنانے کے لیے ایک نہایت مؤثر نصیحت فرمائی
نماز اس طرح ادا کرو جیسے یہ تمہاری آخری نماز ہو
جب انسان یہ تصور کر لیتا ہے کہ شاید اس کے بعد نماز کا موقع نہ ملے، تو خود بخود اس کے اندر خشوع، عاجزی اور خوفِ خدا پیدا ہو جاتا ہے۔ ایسی نماز انسان کی پوری زندگی پر مثبت اثر ڈالتی ہے۔
کامیاب مومن کی پہچان
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کامیاب مومنوں کی پہچان یوں بیان فرماتا ہے
یقیناً وہ مومن کامیاب ہو گئے جو اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرتے ہیں
(سورۃ المؤمنون: 1-2)
یہ کامیابی اسی وقت نصیب ہوتی ہے جب نماز شعور، سمجھ اور دل کی حاضری کے ساتھ ادا کی جائے۔
غفلت والی نماز کا انجام
قرآن مجید میں غفلت کے ساتھ ادا کی جانے والی نماز پر سخت تنبیہ بھی کی گئی ہے
پس تباہی ہے ان نمازیوں کے لیے جو اپنی نماز سے غافل رہتے ہیں
(سورۃ الماعون: 4-5)
یہ غفلت کبھی معنی نہ سمجھنے کی صورت میں ہوتی ہے، کبھی دل کی بے توجہی میں اور کبھی محض رسم کے طور پر نماز ادا کرنے میں۔
حل کیا ہے؟
اس کا حل یہی ہے کہ ہر مسلمان اپنی نماز کا جائزہ لے
کیا میں جو پڑھ رہا ہوں، سمجھتا بھی ہوں؟
میرا دل اللہ کے سامنے حاضر ہوتا ہے؟
کیا میری نماز مجھے برائی سے روکتی ہے؟
آہستہ آہستہ اگر شعوری کوشش کی جائے تو نماز ایک زندہ عبادت بن جاتی ہے، جو دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کا ذریعہ بنتی ہے۔

