کتاب کا تعارف
الاتقان فی علوم القرآن قرآنِ مجید کے علوم پر لکھی جانے والی سب سے جامع اور عظیم تصنیف ہے۔ امام جلال الدین سیوطیؒ نے اس میں قرآن کے تمام پہلوؤں کو نہایت گہرائی سے بیان کیا ہے۔ یہ کتاب علومِ قرآن کی بنیاد قرار دی جاتی ہے۔
اس کتاب میں سیوطیؒ نے نزولِ قرآن، اسبابِ نزول، مکی و مدنی سورتوں، قراءتوں، جمعِ قرآن اور ناسخ و منسوخ جیسے موضوعات پر مکمل روشنی ڈالی ہے۔ ہر باب میں دلائل، مثالیں اور اقوالِ مفسرین شامل ہیں۔
الأتقان کا سب سے نمایاں پہلو اس کا تحقیقی انداز ہے۔ امام سیوطیؒ نے محض روایات نقل نہیں کیں بلکہ ان کا تقابلی مطالعہ کر کے نتائج پیش کیے۔ یہی وجہ ہے کہ بعد کے علماء نے اس کتاب کو قرآن فہمی کی بنیاد قرار دیا۔
یہ کتاب علمائے تفسیر کے لیے ایک انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں قرآن کے تمام علمی، لسانی، تاریخی اور بلاغتی پہلوؤں پر مبسوط گفتگو ملتی ہے۔
آج بھی علومِ قرآن پر کوئی علمی مطالعہ “الاتقان” کے بغیر مکمل نہیں سمجھا جاتا۔ یہ کتاب قرآن کی علمی میراث کا روشن مینار ہے۔
امام جلال الدین سیوطیؒ
مصنف کا تعارف
امام جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکر السیوطیؒ (849ھ – 911ھ) مصر کے شہر سیوط میں پیدا ہوئے۔ وہ اسلامی علوم کے ہمہ گیر عالم، مفسر، محدث، فقیہ اور مورخ تھے۔ سیوطیؒ نے کم عمری میں قرآن حفظ کیا اور نوجوانی میں ہی حدیث و تفسیر میں کمال حاصل کر لیا۔
ان کی تصنیفات کی تعداد آٹھ سو سے زیادہ بتائی جاتی ہے جن میں “تفسیر الدرالمنثور”، “الجامع الصغیر”، اور “الأتقان فی علوم القرآن” نمایاں ہیں۔
وہ شافعی فقہ کے عظیم امام اور تصنیف و تحقیق کے بانیان میں شمار ہوتے ہیں۔ سیوطیؒ کا اسلوب جامع، مدلل اور تحقیقی ہے۔
ان کی علمی زندگی نے بعد کے مفسرین پر گہرا اثر ڈالا۔ “الاتقان” ان کی علمی بصیرت اور قرآن فہمی کی بلند مثال ہے۔
